LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی باکسر قدرت اللہ گلاسگو میں پراسرار طور پر لاپتہ

News Image
کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لیے جانے والے پاکستانی باکسر قدرت اللہ کے لاپتہ ہونے کے بعد حکام نے ان کی بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ باکسر کے غائب ہونے سے ملک کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور متعلقہ ادارے ان کی تلاش کے لیے کوشاں ہیں۔
گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے اختتام پر پاکستانی دستے کے باکسر قدرت اللہ کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پاکستانی حکام نے کھلاڑی کی تلاش کے لیے اعلیٰ سطحی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ بیس سالہ باکسر، جنہوں نے مردوں کے 60 کلوگرام کیٹگری میں ملک کی نمائندگی کی تھی، ٹورنامنٹ کی تکمیل کے بعد قومی ٹیم کے ساتھ وطن واپس نہیں پہنچے۔ ذرائع کے مطابق، روانگی سے چند گھنٹے قبل تک تمام کھلاڑی اپنی رہائش گاہوں پر موجود تھے، تاہم رات کے آخری پہر قدرت اللہ اپنے کمرے سے غائب ہو گئے۔ پاکستانی دستے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تمام کھلاڑیوں کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات وفد کے سربراہ کی تحویل میں تھیں، اس کے باوجود کھلاڑی کا غائب ہو جانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومتی اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کھلاڑی آخر کہاں گیا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کھلاڑی سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو موجودہ حالات میں یہ عمل اتنا آسان نہیں ہوگا۔ برطانوی حکام کی جانب سے جاری کردہ چھ ماہ کے ویزے کے باعث فی الحال اس معاملے میں فوری قانونی کارروائی کا دائرہ کار محدود ہے، تاہم حکومتی سطح پر قدرت اللہ کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ قدرت اللہ کا تعلق پاک فوج کے محکمہ سے ہے، اور ان کی گمشدگی سے ملک کی بین الاقوامی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی پاکستانی ایتھلیٹ نے بیرونِ ملک قیام کے دوران ٹیم کو چھوڑا ہو۔ اس سے قبل 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں بھی دو پاکستانی باکسر وطن واپسی کے بجائے وہیں رک گئے تھے، جبکہ 2024 میں باکسر زہیب رشید اٹلی میں اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران غائب ہو گئے تھے۔ ان مسلسل واقعات نے قومی کھیلوں کی فیڈریشن کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کی نگرانی کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدیداران سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آ سکا ہے۔ قومی دستے نے گلاسگو گیمز میں صرف ایک کانسی کا تمغہ جیتا، جو کہ فاطمہ زہرہ نے خواتین کی 60 کلوگرام کیٹگری میں اپنے نام کیا۔ قدرت اللہ کا کیس اب ایک ہائی پروفائل معاملہ بن چکا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی ان کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع موصول ہوگی۔