World
امریکہ میں امیگریشن کے نئے سخت قوانین کا نفاذ
امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن نے ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے جس کے تحت امیگریشن افسران نامکمل درخواستوں کو بغیر کسی تنبیہ کے فوری مسترد کر سکیں گے۔ اس تبدیلی کا مقصد کاغذی کارروائی کے عمل کو تیز کرنا اور غلط یا ادھوری درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) نے امیگریشن کے عمل میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق 5 اگست سے ہو چکا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، امیگریشن افسران کو اب یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ نامکمل امیگریشن درخواستوں کو کسی بھی ابتدائی نوٹس یا اضافی دستاویزات فراہم کرنے کے موقع دیے بغیر براہِ راست مسترد کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام ان افراد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جو گرین کارڈ، ورک پرمٹ، امریکی شہریت، یا دیگر سفری دستاویزات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
نئی ہدایت کے مطابق، درخواست دہندگان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درخواست داخل کرتے وقت تمام مطلوبہ ثبوت اور دستاویزات مکمل کریں۔ ماضی میں، جب کوئی درخواست نامکمل ہوتی تھی، تو امیگریشن افسران 'ریکویسٹ فار ایویڈنس' (RFE) یا 'نوٹس آف انٹینٹ ٹو ڈینائے' (NOID) جاری کرتے تھے، جس سے درخواست دہندہ کو اپنی غلطی درست کرنے یا کمی پوری کرنے کا وقت مل جاتا تھا۔ اب یو ایس سی آئی ایس کی جانب سے یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد دفتری کارروائی میں شفافیت لانا اور زیر التواء کیسز کی تعداد میں کمی کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی بائیڈن دور کی پالیسی کے برعکس ہے، جس میں افسران کو نامکمل درخواستوں پر فوری ایکشن لینے کے بجائے اضافی معلومات طلب کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ یو ایس سی آئی ایس کا ماننا ہے کہ نئی پالیسی سے ان درخواست دہندگان کے لیے عمل تیز ہوگا جو اپنی فائلیں مکمل جمع کرواتے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، کچھ افراد جان بوجھ کر نامکمل یا 'عارضی' درخواستیں جمع کرواتے تھے تاکہ وہ ورک پرمٹ جیسی سہولیات حاصل کر سکیں، اب اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔
اس تبدیلی کے اثرات جنوبی ایشیائی تارکین وطن پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایک بڑی تعداد ورک پرمٹ اور گرین کارڈ کے حصول کے لیے یو ایس سی آئی ایس کی خدمات پر انحصار کرتی ہے۔ امیگریشن وکلاء کے مطابق، نئی پالیسی کے بعد دستاویزات میں معمولی سی غلطی یا کسی کاغذ کی کمی بھی فوری مسترد ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پالیسی ان تمام درخواستوں پر لاگو ہوگی جو 5 اگست یا اس کے بعد دائر کی گئی ہیں، تاہم یہ پالیسی ان قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی جن کے تحت کسی فرد کو شہریت یا گرین کارڈ ملنے کا حق حاصل ہے۔