LIVE
Loading Breaking News...

پشاور ہائیکورٹ کے چار ججوں کی ملازمت کی توثیق کا معاملہ، صدر کی تاخیر پر تشویش

News Image
پشاور ہائیکورٹ کے چار ایڈیشنل ججوں کی تقرری کی توثیق صدر مملکت کی جانب سے نہ ہونے کے باعث ان کا کام رک گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی سفارش کے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہ ہونا عدالتی امور میں تعطل کا سبب بن رہا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے چار ایڈیشنل ججز جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کی ملازمتوں کی توثیق کے لیے صدر مملکت کی جانب سے تاحال دستخط نہ ہونے کے باعث ان ججوں نے اپنے عدالتی فرائض کی انجام دہی روک دی ہے۔ ان ججوں کی تقرری بطور ایڈیشنل جج ایک سال کے لیے ہوئی تھی اور ان کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی تھی جو 4 اگست کو مکمل ہو گئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے 20 جولائی کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175 (اے) کے تحت ان ججوں کی مستقل تعیناتی کی سفارش کی تھی، تاہم صدر مملکت کی جانب سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، 3 اگست کے بعد سے ان چاروں ججوں کو کوئی مقدمہ تفویض نہیں کیا گیا ہے کیونکہ قانونی طور پر جب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہو، جج عدالتی کام سرانجام نہیں دے سکتے۔ پشاور ہائیکورٹ انتظامیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزارت قانون کے ساتھ رابطے میں ہے۔ دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان یوسفزئی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سمری کی توثیق کریں تاکہ عدالتی امور میں پیدا ہونے والا یہ تعطل ختم ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں صدر اس سمری کو روکنے کے مجاز نہیں ہیں اور اس پر دستخط کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں پشاور ہائیکورٹ کے پہلے سے زیر التواء مقدمات کے بوجھ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہائیکورٹ میں پہلے ہی ججوں کی کمی ہے اور چار ججوں کے کام بند کرنے سے عدالتی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان ججوں میں جسٹس فرح جمشید اور جسٹس انعام اللہ خان کا تعلق طویل عدالتی کیریئر سے ہے اور وہ ضلعی عدلیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جبکہ جسٹس ثابت اللہ اور جسٹس اورنگزیب کا تعلق وکالت کے شعبے سے ہے۔ قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے آئینی معاملات میں تاخیر سے عدلیہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور عوام کے لیے انصاف کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ بار ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ جائیں گی۔