Pakistan
الیکشن کمیشن کے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی کڑی نگرانی کیلئے نئے اقدامات
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی قوانین 2017 میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں کی گہرائی سے جانچ کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں سے براہ راست تفصیلات حاصل کر کے اثاثوں کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ایک اہم پیش رفت کے تحت قانون سازوں کے گوشواروں اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن نے الیکشن رولز 2017 میں ترامیم تجویز کی ہیں، جن کا بنیادی مقصد ارکان پارلیمنٹ کے مالیاتی ریکارڈ کی تصدیق کیلئے کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہے۔ ان نئی مجوزہ ترامیم کے تحت، الیکشن کمیشن اب مختلف مالیاتی اداروں اور بینکوں سے قانون سازوں کے مالیاتی اثاثوں اور گوشواروں سے متعلق براہ راست تفصیلات طلب کر سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام ملکی سیاست میں شفافیت لانے کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب تک ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے گوشواروں کی تصدیق کا عمل کافی محدود تھا۔ نئے قواعد کے لاگو ہونے کے بعد، الیکشن کمیشن کو یہ قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی رکن کے اثاثوں میں تضاد پائے جانے کی صورت میں متعلقہ بینکنگ ریکارڈز اور مالیاتی لین دین کا تفصیلی جائزہ لے سکے۔ یہ اقدام نہ صرف سیاسی عمل میں دیانت داری کو فروغ دے گا بلکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بھی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے اس اہم معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز، قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں سے رائے طلب کی ہے۔ کمیشن کی جانب سے ان ترامیم پر فیڈ بیک جمع کرانے کیلئے 15 اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اس تاریخ تک موصول ہونے والی تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق میں ان تبدیلیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو ایک سخت گیر انتظامی اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے مستقبل میں ارکان اسمبلی کی جانب سے اثاثوں کے غلط اندراج کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انتخابی قوانین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس تحقیقاتی اختیارات نسبتاً محدود تھے، جس کی وجہ سے اکثر اوقات ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے گوشواروں کی درستگی کا تعین کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اب حکومت اور الیکشن کمیشن اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ عوامی نمائندوں کے مالیاتی معاملات مکمل طور پر شفاف ہوں۔ آنے والے دنوں میں اس قانون سازی کے سیاسی اثرات واضح ہوں گے اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ پارلیمانی جماعتیں ان ترامیم کو کس حد تک قبول کرتی ہیں۔