Business
چینی حصص بازار میں مندی، خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر سے تجاوز
پیر کے روز چینی حصص بازار میں کاروبار کا آغاز گراوٹ کے ساتھ ہوا جس کی بنیادی وجہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی کے شدید خدشات ہیں۔ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ مصنوعی ذہانت اور چپ سازی کے حصص میں بھی اصلاح کا سلسلہ جاری رہا۔
پیر کے روز چینی حصص بازار میں کاروبار کا آغاز کمزور رجحان کے ساتھ ہوا اور اہم اشاریے دباؤ کا شکار رہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات نے چینی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ منڈی کھلتے ہی فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جس سے مجموعی کاروباری فضا پر اداسی چھائی رہی۔
شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ ایڈوانس ڈیکلائن رییشو بھی کمزور رہا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بازار میں مندی کا دباؤ وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ دوسری جانب، مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹر یا چپ سازی کے شعبے سے وابستہ حصص میں بھی اصلاح کا عمل جاری رہا، جس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو کسی حد تک ٹھنڈا کیا۔
اس تمام تر گراوٹ کے باوجود بازار کے کچھ حصوں میں دفاعی شعبوں (ਡਿਫੈਂਸਿਵ سیکٹرز) نے سپورٹ فراہم کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے منڈی کو مکمل انہدام سے بچانے میں مدد ملی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں کا سو ڈالر فی بیرل سے اوپر جانا عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ چینی مارکیٹ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
کاروباری تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں چینی حصص بازار کی سمت کا انحصار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی اقتصادی اشاریوں پر ہوگا۔ سرمایہ کار اس صورتحال میں انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے گریزاں نظر آتے ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے محفوظ رہ جا سکے۔