Politics
وفاقی حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی، وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ انہوں نے سیاسی استحکام کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرے گی۔ انہوں نے ملک میں گردش کرنے والی ان تمام افواہوں کو مسترد کر دیا جن میں حکومت کی قبل از وقت تحلیل یا کسی غیر متوقع تبدیلی کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی اور معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور حکومت اپنی توجہ معاشی اصلاحات اور عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت ملک کے تمام اہم قومی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے، لہذا کسی بھی قسم کی سیاسی قیاس آرائیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور حکومت اپنی مدت کے اختتام تک تمام وعدے پورے کرنے کی کوشش کرے گی۔
محسن نقوی نے اپنی گفتگو کے دوران امن و امان کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک میں سکیورٹی کے حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داخلی استحکام کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی بہتری ممکن نہیں ہے، اس لیے حکومت کے فیصلوں میں تسلسل ضروری ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، حکومت کا ایجنڈا مکمل طور پر عوام دوست ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔
آخر میں انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملکی مفاد کو اپنی ذاتی سیاست پر ترجیح دیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔ محسن نقوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے حکومت کی مدت اور کارکردگی پر بحث کی جا رہی تھی۔ تاہم ان کے اس واضح بیان کے بعد حکومتی موقف مزید مضبوط ہوا ہے کہ موجودہ انتظامیہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا سیاسی دباؤ کے بغیر اپنے امور جاری رکھے گی۔