LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں صحافی پر پولیس تشدد اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں

News Image
لاہور میں تحریک انصاف کی ریلی کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر ایک صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور حراست میں لے لیا۔ اس واقعے پر صحافتی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کے احتجاج اور ریلی کے دوران پنجاب پولیس نے مبینہ طور پر ایک مقامی ٹی وی چینل کے صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے حراست میں لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی کے وکلاء اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج نیوز کے رپورٹر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے کہ اس دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا اور زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد صحافتی برادری اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افراد اور مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے جن میں پی ٹی آئی کے حامی اور کچھ وکلاء بھی شامل ہیں۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اہم شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ٹی ٹی اے پی سمیت دیگر صحافتی تنظیموں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو نشانہ بنانا آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست صحافی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس ناخوشگوار واقعے کی شفاف انکوائری کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔