Politics
عمران خان کی قید کے 3 سال: پاکستان میں احتجاج اور گرفتاریاں
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سو سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے جیل میں تین سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد، کراچی اور پشاور سمیت کئی بڑے شہروں میں پارٹی کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران کئی مقامات پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن کیا اور ایک سو سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں اور حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف بھرپور مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسعت اختیار کر جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی قید کو تین سال گزرنے کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کا آئینی حق رکھتے ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور بانی چیئرمین کو رہا نہیں کیا جاتا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔ پولیس اور انتظامیہ نے بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس احتجاجی لہر کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔