Sports
شکیب الحسن کا گھر حملہ، شیخ حسینہ پریس کانفرنس کا تنازع
بنگلہ دیش کے سابق کپتان شکیب الحسن کے گھر پر اس وقت حملہ کیا گیا جب انہوں نے مبینہ طور پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی میڈیا بریفنگ میں شرکت کی۔ اس واقعے کے بعد ملک میں سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور نامور آل راؤنڈر شکیب الحسن کے آبائی گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ کرنے اور اسے آگ لگانے کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کشیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب چند گھنٹے قبل شکیب الحسن نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی ایک میڈیا پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر شرکت کی تھی۔ اس واقعے کے بعد بنگلہ دیشی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حملے کے وقت گھر پر توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ شکیب الحسن گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے سیاسی کیریئر اور سابقہ حکومت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے عوامی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ عوامی لیگ کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد سے ان کے خلاف ملک میں مختلف حلقوں کی طرف سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا، اور حالیہ سیاسی بحران کے تناظر میں یہ حملہ اسی کشیدگی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔
کھیلوں کے حلقوں میں اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شکیب الحسن نے بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں اور وہ ملک کے سب سے کامیاب کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم، سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی اور سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
حالیہ سیاسی اتھل پتھل کے بعد بنگلہ دیش میں سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں اور ان کے حامیوں کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شکیب الحسن کا معاملہ بھی اسی سیاسی بحران کا حصہ بن چکا ہے جہاں کھلاڑیوں اور مشہور شخصیات کا سیاست میں حصہ لینا ان کے لیے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر شکیب الحسن کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ کرکٹ شائقین اس پورے معاملے پر انتہائی رنجیدہ ہیں۔