LIVE
Loading Breaking News...

حوثی حملہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ٹرمپ کا بیان

News Image
یمن کے حوثی گروپ نے ایک سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بہت جلد دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھے جانے والے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ یمن میں سرگرم حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ اس دعوے کے بعد بین الاقوامی منڈیوں اور خطے میں سکیورٹی خداتل میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین بحری راستہ ہے۔ توانائی کے ذخائر کی نقل و حمل پر انحصار کرنے والے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیشرفت کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو 'بہت جلد' دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کا مقصد عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کو درپیش غیر یقینی صورتحال کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس حوالے سے حتمی حکمت عملی یا وقت کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن ان کے اس دعوے کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس راستے کی بندش یا رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اس قسم کے حملے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس تمام صورتحال کے تناظر میں اپنی بحری سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کو روکا جا سکے اور تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اس پر عالمی طاقتوں کے ردعمل پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ راستہ جلد کھول دیا جائے گا، اس بحران کے سفارتی اور عسکری حل کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ حوثی گروپ کی کارروائیاں اور ان کا جواب دینے کے لیے کی جانے والی تیاریاں مشرق وسطیٰ کے نازک امن کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔