World
شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کا اعلان اور سیاسی بحران
بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھارت میں جلاوطنی کے دوران وطن واپس लौटने کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، 2024 کے احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے بعد انہیں موت کی سزا کا سامنا ہے جس سے سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم اور عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ نے بھارت میں جلاوطنی کے دوران اپنے وطن واپس لوٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ 2024 کے دوران ملک میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے الزامات کی وجہ سے سنگین عدالت مقدمات اور موت کی سزا کا سامنا کر رہی ہیں۔ شیخ حسینہ کے اس ارادے نے بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے اور یہ سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ عبوری حکومت اور عوام ایک مفرور سابق وزیراعظم کو ملک میں قبول کریں گے یا نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال کے اواخر میں طلباء کی قیادت میں ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا تھا اور انہوں نے پڑوسی ملک بھارت میں پناہ لی تھی۔ ان کے دور حکومت کے اختتام کے بعد سے بنگلہ دیش میں عبوری انتظامیہ ملک کے نظام کو بہتر بنانے اور سابقہ حکومت کے دور میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لیے سرگرم ہے۔ عدالتوں کی جانب سے شیخ حسینہ کو پرتشدد کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائے موت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کی واپسی قانونی اور سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر شیخ حسینہ بنگلہ دیش واپس لوٹنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس سے ملک میں ایک نیا اور شدید سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ عوامی لیگ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے، اور سابق وزیراعظم کی واپسی اس کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔ دوسری طرف، عبوری حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کے مطابق تمام ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے گا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ کی واپسی کی راہ میں قانونی رکاوٹیں بہت مضبوط ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شیخ حسینہ اپنی واپسی کے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہیں اور بنگلہ دیشی ریاست اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے۔