World
فرانسیسی جوہری حکمت عملی: نئی دفاعی پالیسی کی تفصیلات
امریکہ کے یورپ سے پسپائی اختیار کرنے اور روس کے جارحانہ رویے کے تناظر میں فرانس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت فرانسیسی جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
عالمی سیاسی اور دفاعی منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن کے پیش نظر فرانس نے اپنی جوہری حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر ابھرنے والے چیلنجز بالخصوص امریکہ کی جانب سے یورپی سیکیورٹی سے بتدریج پسپائی اور دوسری طرف روس کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے نے یورپی ممالک کو اپنے دفاع کے بارے میں از سر نو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں فرانسیسی حکومت نے اپنے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم یورپی یونین کے اندر خود انحصاری اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
امریکہ اور یورپ کے مابین روایتی دفاعی شراکت داری میں حالیہ کچھ عرصے میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، اس نے یورپی رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ ناٹو کا اتحاد تاحال قائم ہے، تاہم واشنگٹن کی ترجیحات میں تبدیلی اور اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث یورپی ممالک اب اپنے دفاع کے لیے اکیلے میں بھی تیاری کرنے پر مجبور ہیں۔ فرانس جو کہ یورپی یونین کا واحد جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے، اس نے محسوس کیا ہے کہ اس کے پاس موجود روایتی اور اسٹریٹجک ہتھیار اب خطے کے نئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی قیادت اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب، یوکرین تنازعہ کے بعد سے روس کی عسکری پالیسی میں جو جارحانہ انداز دیکھا گیا ہے، اس نے مشرقی اور وسطی یورپ کے ساتھ ساتھ مغربی یورپی دارالحکومتوں میں بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماسکو کی طرف سے مسلسل ملنے والی دھمکیاں اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بیانات نے سکیورٹی ماہرین کو یہ باور کرایا ہے کہ یورپی ممالک کو روایتی دفاع سے ہٹ کر زیادہ سخت اور موثر ڈیٹرنس پالیسی اپنانا ہوگی۔ فرانس کی جانب سے نئی جوہری حکمت عملی کی تیاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا سکے اور یورپ کے دفاعی حصار کو ناقابل تسخیر بنایا جا سکے۔
اس پوری صورتحال میں فرانس کا یہ قدم نہ صرف فرانسیسی قوم بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک نئے دفاعی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر کچھ سفارتی بحث بھی چھڑ سکتی ہے، لیکن فرانسیسی حکومت کا موقف واضح ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ملکی اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آنے والے مہینوں میں اس نئی حکمت عملی کے تحت فرانسیسی دفاعی بجٹ اور اسٹریٹجک اثاثوں میں مزید اضافے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے، جس سے یورپی دفاعی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔