World
ایرانی فٹبالرز جنہیں ترانہ نہ پڑھنے پر آسٹریلیا کی شہریت ملی
ایران کی خواتین فٹبال ٹیم کی دو کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضان زادہ کو آسٹریلیا کی شہریت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے ایشین کپ کے دوران ایران کا قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں سکیورٹی خدشات کا سامنا تھا۔
آسٹریلیا کی حکومت نے ایران کی خواتین فٹبال ٹیم کی دو سابق کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر آسٹریلوی شہریت دے دی ہے۔ ان کھلاڑیوں نے ماضی میں ایشین کپ کے دوران اپنے ملک کا قومی ترانہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں شدید عالمی توجہ اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کھلاڑیوں میں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضان زادہ شامل ہیں جنہوں نے اب آسٹریلیا کی شہریت ملنے پر انتہائی فخر اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایرانی ٹیم بین الاقوامی سطح پر ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی تھی۔ اس دوران کھلاڑیوں کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ملک میں جاری سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں ایک بڑا علامتی احتجاج سمجھا جا رہا تھا۔ قومی ترانہ نہ گانے کے اس واقعے کے بعد ان کے لیے اپنے وطن واپس لوٹنا خطرناک ہو سکتا تھا، کیونکہ اس سے انہیں قانونی اور حکومتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا۔
آسٹریلیا پہنچنے اور پناہ حاصل کرنے کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں نے کھیلوں کے میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ آسٹریلوی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کیا۔ اب آسٹریلوی شہریت ملنے کے بعد دونوں فٹبالرز نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہاں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں اور اپنے کھیل کے ذریعے آسٹریلوی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کھلاڑی اپنے بنیادی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ کھیلوں کے حلقوں میں اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے اور اسے مصیبت میں پھنسے کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم انسانی ہمدردی کا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضان زادہ کا یہ سفر دنیا بھر کی ان خواتین کے لیے ایک مثال بن چکا ہے جو جبر کے خلاف پرامن احتجاج کا راستہ اپناتی ہیں۔