Entertainment
کرسٹوفر نولن رومانٹک کامیڈی فلم بنانے کو مشکل کیوں سمجھتے ہیں
معروف ہالی ووڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ رومانٹک کامیڈی فلم بنانے کا سوچ کر بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صنف کی فلمیں بنانا دنیا کے سب سے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔
مشہور و معروف ہالی ووڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولن، جو اپنی پیچیدہ، سنسنی خیز اور فکر انگیز سائنس فکشن فلموں کے لیے پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں، نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک رومانٹک کامیڈی فلم بنانے کے خیال سے ہی شدید خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس صنف کو دنیا کے سب سے کٹھن ترین کاموں میں سے ایک قرار دیا۔ کرسٹوفر نولن، جنہوں نے 'ٹینٹ', 'انسیپشن', 'انٹرسٹیلر' اور 'اوپن ہائیمر' جیسی شاہکار اور باکس آفس پر دھوم مچانے والی فلمیں بنائیں، سنیما کی دنیا میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بڑے پیمانے پر ڈرامائی اور تکنیکی طور پر پیچیدہ موضوعات پر کام کیا ہے، لیکن جب بات رومانٹک کامیڈی کی آتی ہے تو ان کا ماننا ہے کہ اس میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ کرسٹوفر نولن کے مطابق، رومانٹک کامیڈی ایک ایسی صنف ہے جہاں ناظرین کے جذبات کو بالکل درست طریقے سے چھونا اور بیک وقت انہیں ہنسانا ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ اس میں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ کہانی کا ہر ایک لمحہ ناظرین کے دل میں اترنا چاہیے۔ اگرچہ ناقدین اور شائقین ہمیشہ سے ان کے منفرد اندازِ ہدایت کاری کی تعریف کرتے آئے ہیں، لیکن نولن کا یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ فلم سازی کے اس روایتی میدان میں اترنے کے لیے کتنی زیادہ مہارت اور جگرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کرسٹوفر نولن جیسے باصلاحیت ہدایت کار کا اس صنف کو اس قدر مشکل قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ رومانٹک کامیڈی فلمیں بظاہر جتنی ہلکی پھلکی معلوم ہوتی ہیں، اندرونی طور پر ان کی تشکیل اتنی ہی زیادہ محنت طلب اور چیلنجنگ ہوتی ہے۔