World
روسی حملے یوکرین میں ہلاک، ماسکو کا ڈرون ناکام بنانے کا دعویٰ
یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ روس کے حالیہ فضائی حملوں میں خارکیف اور سومی کے علاقوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک کے مختلف حصوں میں چھ سو سے زائد یوکرینی ڈرون ناکام بنا دیے ہیں۔
یوکرین کے مختلف علاقوں میں روسی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے تازہ نتائج میں کم از کم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ ہلاکتیں ملک کے شمال مشرقی اور مشرقی حصوں میں واقع خارکیف اور سومی کے علاقوں میں پیش آئیں۔ ان حملوں نے ایک بار پھر عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ملبے سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے سینکڑوں ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق، مجموعی طور پر چھ سو پانچ ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ یا ان کا رخ موڑ دیا گیا، جس سے کسی بڑے نقصان کو ٹالنے میں مدد ملی۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور اس کا فضائی دفاعی نظام انتہائی مستعدی سے کام کر رہا ہے۔
یہ حالیہ جھڑپیں اس تنازع کی طویل اور خونریز نوعیت کو اجاگر کرتی ہیں جو فریقین کے درمیان جاری ہے۔ بین الاقوامی برادری ایک بار پھر فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ دونوںممالک کے درمیان جاری اس کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو متاثر کیا ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا فوری سفارتی حل تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔