LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کی نئی تجویز

News Image
امریکہ میں ایک بار پھر میزائل ڈیفنس سسٹم کے حوالے سے 'گولڈن ڈوم' بنانے کی تجویز زیر بحث لائی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ اسکل کی اس نئی تجویز کے بعد ماضی کے دفاعی منصوبوں پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے۔
امریکہ میں ایک بار پھر دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور دشمن کے فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک نئے میزائل ڈیفنس سسٹم کی تجویز زیر غور ہے۔ اس تجویز کو 'گولڈن ڈوم' کا نام دیا گیا ہے، جس نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ماہرینِ دفاع کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اس طرح کے خیالات اور منصوبے ماضی میں بھی سامنے آ چکے ہیں جن کا مقصد امریکی فضائی حدود کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ بنانا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس خیال کو دوبارہ اٹھانے کے بعد مبصرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ تجویز تکنیکی اور مالی اعتبار سے کتنی قابلِ عمل ہے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے کئی دفاعی منصوبے تجویز کیے گئے تھے جن پر کثیر سرمائے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم عملی مشکلات اور تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے وہ مکمل طور پر بارآور ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس نئے سسٹم کی تشکیل کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے روایتی دفاعی نظاموں کے لیے بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے میں ایک مضبوط اور جدید شیلڈ یا ڈوم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو نہ صرف روایتی میزائلوں بلکہ نئے فضائی خطرات کا بھی مؤثر سدباب کر سکے۔ آنے والے دنوں میں اس تجویز پر کانگریس اور عسکری حلقوں کے درمیان مزید بحث متوقع ہے۔ اگرچہ یہ ایک پرانا خیال ہے جسے نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر کتنی موثر حکمت عملی کے تحت کام کیا جاتا ہے اور دستیاب بجٹ میں اسے کس حد تک عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔