Pakistan
کراچی: میر رضا علی کیس میں لاش کشائی کا حکم اور پوسٹ مارٹم تنازعہ
کراچی کی ایک عدالت نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ میر رضا علی کی لاش کشائی کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پولیس سرجن اور تفتیش کاروں کے درمیان پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ خامیوں پر تنازعہ کے بعد سامنے آیا ہے۔
کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے فارغ التحصیل نوجوان میر رضا علی کے قتل اور اس کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پیدا ہونے والے تنازعے کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک مقامی عدالت نے جمعرات کے روز نوجوان کی لاش کشائی یعنی قبر کشائی کی اجازت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گلستان جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے میر رضا علی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے سینے پر گولی کا نشان پایا گیا تھا، جس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ یہ احکامات مقتول کے والد کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر جاری کیے گئے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی طبی رپورٹ میں کئی اہم شواہد کو نظر انداز کیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات ناگزیر ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پولیس سرجن اور تفتیش کاروں کے درمیان میڈیکو لیگل رپورٹ میں مبینہ خامیوں اور کوتاہیوں پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے قتل کے اصل حقائق سے پردہ اٹھانا مشکل ہو رہا ہے، اور اسی ابہام کو دور کرنے کے لیے عدالتی مداخلت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ عدالت نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں پولیس سرجن اور محکمہ صحت سندھ کے سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد ایک باضابطہ میڈیکو لیگل بورڈ تشکیل دیں۔ اس بورڈ کا بنیادی کام میر رضا علی کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے تحت نکال کر دوبارہ مکمل طبی معائنہ کرنا ہوگا تاکہ موت کی اصل وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اس پوری کارروائی اور تاریخ سے عدالت کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس کیس کی مزید تحقیقات اور بورڈ کی رپورٹ آنے کے بعد اس المناک واقعے کے مزید اہم پہلو سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔