LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ: صحافی اسد طور کو انکوائری میں ہراساں کرنے سے روک دیا گیا

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی کو صحافی اسد طور کے خلاف انکوائری میں ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ معروف ولوگر اور صحافی اسد طور کے خلاف جاری انکوائری کے دوران انہیں ہراساں نہ کریں۔ یہ حکم نامہ جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت میں اسد طور کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ ایجنسی نے رواں سال 29 جولائی کو اسد طور کو جعلی معلومات پھیلانے اور عوامی سطح پر اس کی ترسیل کے الزامات کے تحت ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہیں 31 جولائی کو اسلام آباد میں قائم سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ صحافی نے اس سمن کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایجنسی نے نوٹس جاری کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور ان پر عائد کردہ الزامات کی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ سماعت کے دوران اسد طور کے وکیل ایڈوکیٹ عطااللہ کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل انکوائری میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں گرفتاری کا شدید خدشہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسد طور پر جعلی خبریں پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو کہ پی ٹی آئی کے بانی کی طبی حالت سے متعلق ایک خبر سے منسلک ہے۔ اس موقع پر جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ ایجنسی نے کس مخصوص خبر کو جعلی قرار دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ کارروائی کے دوران صحافی کو ہراساں نہ کیا جائے اور ساتھ ہی متعلقہ تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔ اس سے قبل بھی اسد طور کو ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ مہم چلانے کے الزام میں فروری 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا جس پر صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی اور نیشنل پریس کلب سمیت دیگر اداروں نے صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کی کوششوں کی مذمت کی تھی۔