World
امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات پیچیدہ ہوں گے، جے ڈی وینس کا بیان
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ اور طویل ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تمام سفارتی عمل کا حتمی نتیجہ بالآخر امریکہ کے مفاد میں ہی ہوگا۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری اور علاقائی امور پر مذاکرات کا راستہ انتہائی دشوار گزار اور طویل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کی وجہ سے یہ عمل کافی گڑبڑ والا اور پیچیدہ ثابت ہوسکتا ہے جس کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔ جے ڈی وینس کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال تہران کے ساتھ سفارتی سطح پر محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ عروج پر ہے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ وینس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگرچہ یہ بات چیت آسان نہیں ہوگی اور اس میں کئی نشیب و فراز آئیں گے، تاہم اس تمام سفارتی اور اسٹریٹجک عمل کا حتمی نتیجہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ ایران کے حوالے سے سخت اور نپا تلا موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک طرف جہاں فوجی تیاریوں اور گولہ بارود کی کمی سے متعلق خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف سفارتی چینلز کو بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔ جے ڈی وینس کی یہ تنبیہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن کسی بھی فوری یا جلد بازی کے معاہدے کے بجائے ایک طویل مدتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
اس صورتحال میں مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی یا اضافے کا انحصار اسی پیچیدہ مذاکراتی عمل پر ہوگا۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت اور خطے کے امن پر پڑیں گے۔