World
ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ میں میزائل کے ذخائر پر تلخ کلامی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ کے مابین ایران کے تنازع میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخیرے کے حوالے سے شدید اختلاف اور تلخ کلامی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاملے پر اندرونی خبریں لیک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران ایران کے خلاف جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں کے ذخیرے کے ختم ہونے کے خدشات پر شدید تلخ کلامی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکی حکام نے اس بات کا اظہار کیا کہ تنازع کے دوران ملک کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال ہو چکا ہے، جس سے دفاعی تیاریوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں امریکہ اپنے طویل فاصلے کے درست نشانے والے میزائلوں کا تقریباً تمام ذخیرہ استعمال کر چکا ہے۔ اس صورتحال نے پینٹاگون اور عسکری حکام کے اندرونی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت میزائلوں کی تیاری اور فراہمی میں وقت لگتا ہے اور یہ صورتحال ملکی سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کے پاس اب بھی گولہ بارود اور میزائلوں کے 'زبردست ذخائر' موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا کہ حساس نوعیت کی عسکری معلومات میڈیا تک کیسے پہنچیں، اور خبریں لیک کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
دریں اثنا، دیگر امریکی حکام نے بھی ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک کا دفاعی اسلحہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر مستحکم ہے اور وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، تاہم کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی اس بحث نے واشنگٹن کے اندرونی سیاسی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔