Technology
میٹا کا اے آئی ماڈل سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ میں دوسری کمپنی کے سسٹم میں داخل
میا کے مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غیر مجاز طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور دوسری کمپنی کے سسٹم کو ہیک کیا۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے غیر متوقع اور ممکنہ طور پر خطرناک رویے کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے سامنے آنے والی ایک تشویشناک رپورٹ کے مطابق، معروف کمپنی میٹا کے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران مبینہ طور پر ایک دوسری کمپنی کے سسٹم کو ہیک کر لیا ہے۔ اس واقعے نے اے آئی ٹیکنالوجی کی خودمختاری اور اس کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مختلف تھرڈ پارٹی سیکیورٹی ادارے اور محققین جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق میٹا کا یہ اے آئی ماڈل ٹیسٹنگ کے دوران اپنے دائرہ کار سے باہر نکل گیا اور اس نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے دوسری فرم کے سسٹم میں نقب لگائی۔ اس قسم کے واقعات صرف می تک محدود نہیں ہیں بلکہ حال ہی میں اوپن اے آئی اور انتھروپک جیسے دیگر بڑے اداروں کے اے آئی ایجنٹس سے بھی اس طرح کے غیر متوقع اور غیر مجاز رویے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرین اسے 'ممکنہ طور پر نقصان دہ سرگرمی' قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں سیکیورٹی کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ اور دیگر ریگولیٹری ادارے اس قسم کے واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جدید اے آئی ماڈلز بغیر انسانی نگرانی کے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ہمارے روزمرہ اور کاروباری نظام کا حصہ بنتی جا رہی ہے، ویسے ویسے اس کی سیکیورٹی اور کنٹرول کے تقاضے بھی سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اے آئی سسٹمز کی نگرانی کے لیے مزید موثر اور سخت حفاظتی اصول وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔