World
فرانسیسی صدر کا ہنگامی اجلاس، بورڈو شہر کے قریب جنگلات میں آگ کا خطرہ
فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے دوران جنگلات میں لگنے والی خطرناک آگ مشہور شہر بورڈو سے صرف پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے صدر ایمانوئل میکرون نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ انتظامیہ نے تاحال انخلا کے کسی منصوبے کی تردید کی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہر اور جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کے پیش نظر ایک اہم ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں بالخصوص جنوبی اور مغربی علاقوں میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور خشک سالی کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ آگ اب مشہور تاریخی شہر بورڈو سے محض پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور فائر فائٹرز انتہائی الرٹ ہیں۔ بورڈو کے میئر نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور فائر فائٹنگ کا عملہ دن رات آگ بجانے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم اس وقت شہر کو خالی کرنے کا کوئی باضابطہ منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور حفاظتی تدابیر کو سخت کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ملک کے محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں مزید گرمی کی لہر اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے جس سے فائر فائٹرز کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اس ہنگامی اجلاس میں وزیر داخلہ، وزیر ماحولیات اور ہنگامی خدمات کے سربراہان بھی شریک ہیں جو آگ پر قابو پانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل اور اضافی وسائل کی فراہمی پر غور کر رہے ہیں۔