World
انگلینڈ کے دریا اور جھیلیں ماحولیاتی جائزے میں ناکام
انگلینڈ کے آبی ذخائر کا چھ سال بعد کیا جانے والا جامع جائزہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر دریا اور جھیلیں نئے ماحولیاتی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبی نظام کی بہتری کے حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
انگلینڈ کے آبی ذخائر اور آبی نظام کے حوالے سے چھ سال بعد جاری کی جانے والی ایک انتہائی جامع اور اہم ماحولیاتی جائزے کی رپورٹ نے متعلقہ اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کے بیشتر دریا، جھیلیں اور دیگر آبی ذرائع نئے اور سخت ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چھ سال کے طویل وقفے کے بعد کیا جانے والا یہ پہلا باضابطہ جائزہ ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک بھر کے آبی نظام میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کوئی قابل ذکر یا مثبت بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آبی آلودگی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ابھی تک ناکافی ثابت ہو رہے ہیں اور اس شعبے میں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر مزید سخت اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد برطانوی حکومت اور ماحولیاتی تحفظ کے ذمہ دار اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کہ وہ آبی ذخائر کی صفائی اور ان کے تحفظ کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز اور پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں۔ دوسری جانب عوامی حلقوں اور ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ خراب آبی معیار نہ صرف آبی حیات کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر ماحولیاتی توازن اور انسانی صحت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ دریاؤں اور جھیلوں کے پانی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔