World
ایبولا کی وبا میں تشویشناک اضافہ، طبی عملے کی ہڑتال
صحت کے کارکنوں کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی کے مطالبات پر ہڑتال کے باعث ایبولا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ہے۔ صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی اداروں نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ایبولا کی خطرناک وبا ایک بار پھر تیزی سے پھیلنے لگی ہے اور اس بحران کی سب سے بڑی وجہ طبی عملے کی طرف سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کی جانے والی ہڑتال ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹرز اور نرسیں اپنے جائز مالی مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ ہڑتال کے باعث نہ صرف متاثرہ افراد کی بروقت تشخیص اور علاج رک گیا ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روٹنے کے لیے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات بھی سخت تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر طبی عملے کے مطالبات فوراً تسلیم کر کے انہیں کام پر واپس نہ لایا گیا تو یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ مقامی حکومتیں اور متعلقہ ادارے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ کسی بڑے انسانی المیے کو روکا جا سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نازک موڑ پر صحت کے کارکنوں کی ہڑتال وائرس کے پھیلاؤ کو مزید مہلک بنا سکتی ہے، اس لیے فوری طور پر فنڈز کی فراہمی اور تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عالمی برادری نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خطے میں ہنگامی امداد بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس خطرناک بحران پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے اور مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔