LIVE
Loading Breaking News...

سوڈان کی جنگ: مروٰی کے قدیم اہرام خطرے میں

News Image
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی کے باعث دو سو سے زائد قدیم مروٰی اہرام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ یہ تاریخی ورثہ عدم توجہی اور جنگی کارروائیوں کی زد میں آنے کی وجہ سے برباد ہو رہا ہے۔
سوڈان میں جاری تباہ کن خانہ جنگی نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ ملک کے قیمتی تاریخی اور ثقافتی ورثے کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دو سو سے زائد قدیم مروٰی اہرام اس بڑھتی ہوئی جنگ اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سخت خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ تاریخی مقام دنیا بھر میں اپنی انفرادیت اور قدیم تہذیب کے آثار کی وجہ سے مشہور ہے، جسے یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ ماہرینِ آثار قدیمہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ورثے کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو انسانیت کا یہ قیمتی سرمایہ ہمیشہ کے لیے مٹ سکتا ہے۔ مروٰی کے یہ اہرام قدیم کوش کی سلطنت کی عظیم الشان تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں، جن کی تعمیر صدیوں پر محیط ہے۔ ملک میں جاری کشیدگی نے ان تاریخی مقامات کی دیکھ بھال کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جنگ کی وجہ سے نہ صرف ان یادگاروں کو براہِ راست نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ انتظامی غفلت بھی ان کی بربادی کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی اداروں اور ثقافتی تنظیموں نے سوڈان کے تنازعے میں فریقین سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ تاریخی مقامات کو جنگ سے دور رکھیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، جہاں سکیورٹی کے بحران کی وجہ سے تاریخی اثاثے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان اہرام کو نقصان پہنچا تو یہ دنیا کے ثقافتی ورثے کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کس طرح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی ورثے کو جنگی تباہی سے بچایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان تاریخی عجائبات سے محروم نہ ہوں۔