Pakistan
عمران خان کی صحت: قاسم اور سلیمان کا سی این این کو انٹرویو
سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے والد کی صحت اور طویل عرصے سے ملاقات نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے مبینہ تاخیری حربوں اور ویزا مسائل کی وجہ سے وہ اپنے والد سے ملنے سے قاصر ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں اپنے والد کی قید اور صحت کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ قاسم اور سلیمان نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے اپنے والد سے کسی قسم کی براہ راست معلومات حاصل کرنے سے محروم ہیں کیونکہ خاندان، ڈاکٹروں اور وکلاء کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
لندن سے بات کرتے ہوئے قاسم اور سلیمان نے دعویٰ کیا کہ جب بھی وہ اپنے والد کے حق میں میڈیا سے بات کرتے ہیں، پاکستانی حکام مبینہ طور پر ان کے ویزوں میں تاخیر کرتے ہیں یا انہیں انتظامی مسائل میں الجھا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں لیکن ان کے اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈز (نیکوپ) کی مدت ختم ہو چکی ہے اور نئے ویزے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وزارتِ اطلاعات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے پاس نیکوپ موجود ہیں اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں، اور ان کے بیانات کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیا۔
عمران خان کے بیٹوں نے والد کے کسی بھی قسم کے سیاسی ڈیل کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان دیگر سیاسی قیدیوں کو چھوڑ کر کبھی کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے خاندان کو عمران خان کی صحت کی کوئی باضابطہ رپورٹ فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ قاسم نے اپنے والد پر عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دنیا بھر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں کیونکہ کروڑوں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے رہنما کو بغیر کسی جواز کے قید میں رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کو اگست 2023 میں توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں ان کی رہائی اور بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے باقاعدہ ملاقاتوں کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم خاندان اور پارٹی رہنماؤں کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے شفافیت کا فقدان ہے اور عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی، جبکہ حکومت ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔