LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کو خط، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش

News Image
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری غیر قانونی ڈیموگرافک انجینئرنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال بالخصوص وہاں جاری غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں (ڈیموگرافک انجینئرنگ) کو اجاگر کیا گیا ہے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے، جو چوتھی جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں جن پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں و کشمیر کے متنازعہ تشخص اور اس کے حل کی ضمانت دیتی ہیں، جن پر عمل درآمد کرانا عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ پانچ اگست 2019 کے بعد سے بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ وادی میں ماحول کو مزید خراب کیا ہے، جہاں بے زمین اور غیر مقامی افراد کو رہائشی سرٹیفکیٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ زمینی حقائق کو جبراً بدلا جا سکے۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔ پاکستان کی حکومت اور وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور سلامتی کونسل کے اراکین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں۔ خط کے اختتام پر وزیر خارجہ نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے اور کشمیری عوام کئی دہائیوں سے جاری مظالم سے نجات حاصل کر سکیں۔