LIVE
Loading Breaking News...

بلنڈل کی حکمت عملی اور انگلینڈ کے بیز بال کا خاتمہ

News Image
کرکٹ کی دنیا میں انگلینڈ کی جارحانہ کرکٹ حکمت عملی جسے بیز بال کہا جاتا ہے، کو ایک پرانی روایتی حکمت عملی کے ذریعے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹام بلنڈل اور ان کی ٹیم کی جانب سے اپنائی گئی اس منفرد اور دھیمی حکمت عملی نے تمام تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔
کرکٹ کے میدان میں انگلینڈ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی جارحانہ اور تیز رفتار کرکٹ جسے 'بیز بال' کا نام دیا گیا تھا، نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دنیا بھر کے مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہر قیمت پر جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنا اور مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنا تھا۔ تاہم، حال ہی میں ٹام بلنڈل کی جانب سے استعمال کی جانے والی روایتی اور پرانی حکمت عملی نے اس جارحانہ برتھ ڈے سٹائل کو زبردست چیلنج دیا اور بالآخر اس کے اثرات کو زائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق ٹام بلنڈل نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل کو سست کیا اور فیلڈ پلیسنگ میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے انگریز بلے بازوں کے پاس کھل کر کھیلنے کے مواقع محدود ہو گئے۔ یہ حکمت عملی دراصل روایتی ٹیسٹ کرکٹ کی روح کے مطابق تھی، جہاں کھلاڑیوں کو وکٹ پر وقت گزارنے اور صورتحال کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ جب انگلینڈ کی ٹیم کو اس روایتی اور دفاعی انداز کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے جارحانہ اسٹروکس کارآمد ثابت نہ ہو سکے اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف میچ کا نقشہ بدلا بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ آیا جدید جارحانہ کرکٹ پرانی روایتی تکنیکوں کو مکمل طور پر شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اس پورے واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں جلد بازی اور صرف جارحیت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے، بلکہ حالات کے مطابق روایتی اور سوجھ بوجھ پر مبنی حکمت عملی اب بھی اتنی ہی موثر ہے جتنی کہ ماضی میں تھی۔ آنے والے میچوں میں ٹیمیں اس حکمت عملی سے یقینی طور پر سبق سیکھیں گی اور بیز بال کے مقابلے کے لیے نئے اور متوازن لائحہ عمل تیار کریں گی۔