LIVE
Loading Breaking News...

اڈیالہ جیل رپورٹ اور بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی پر پی ٹی آئی کا موقف

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل کی حالیہ رپورٹ سے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کی تصدیق ہوتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے اس اقدام کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اڈیالہ جیل کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ پارٹی کے بانی کو جیل کے اندر سخت ترین تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ پارٹی ترجمان اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے دی جانے والی یہ رپورٹ دراصل ان کے خدشات کی تصدیق کرتی ہے جو وہ طویل عرصے سے اٹھاتے آ رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ سابق وزیر اعظم کو تمام بنیادی قانونی اور انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قید تنہائی میں رکھنا نہ صرف ملکی جیل مینوئل کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر دیگر قیدیوں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کو بھی ختم کیا جائے۔ دوسری جانب جیل انتظامیہ اور حکومتی شخصیات کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر تمام ضروری سہولیات میسر ہیں اور ان کی صحت و سلامتی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت اس حکومتی مؤقف کو مسترد کرتی ہے اور اسے محض سیاسی انتقام کا تسلسل قرار دیتی ہے۔ اس تازہ ترین بیان کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں پی ٹی آئی اپنے قائد کے حقوق کے لیے احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر عدالتوں میں مزید بحث ہو سکتی ہے کیونکہ قیدیوں کے حقوق کا معاملہ ہمیشہ سے پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک حساس موضوع رہا ہے۔