LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور انسانی دماغ: حقیقت کی شناخت کا بحران

News Image
انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی تصاویر کی بھرمار نے انسانوں کی سوچ اور حقیقت کو پرکھنے کی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل تربیت اور شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جب ہم سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں تو ہر طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) سے تیار کردہ تصاویر کی بھرمار نظر آتی ہے۔ یہ تصاویر اتنی نفاست اور کاریگری سے بنائی جاتی ہیں کہ عام انسان کے لیے اصلی اور نقل میں فرق کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور ٹیکنالوجی کے محققین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اے آئی کا یہ بے دریغ استعمال صرف آن لائن مواد کو ہی متاثر نہیں کر رہا بلکہ یہ ہمارے انسانی دماغ کے سوچنے کے انداز اور حقیقت کو پرکھنے کی صلاحیت کو بھی بنیادی سطح پر تبدیل کر رہا ہے۔ جب انسان بار بار ایسی تصاویر دیکھتا ہے جو کہ جھوٹی یا مصنوعی ہوتی ہیں لیکن حقیقت سے قریب تر دکھائی دیتی ہیں تو اس کا دماغ ہر چیز پر شک کرنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے لوگ اب مستند اور اصلی خبروں یا تصاویر پر بھی اعتبار کرنے سے کتراتے ہیں۔ صحافتی اور تعلیمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب باقاعدہ تربیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ چند گھنٹوں کی تربیت یا بنیادی اصولوں کو سیکھ کر کوئی بھی شخص جعلی اور اصلی تصویر کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اجتماعی سطح پر شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جامعات اور تحقیقی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ نئی نسل کو ڈیجیٹل لٹریسی فراہم کی جائے تاکہ وہ آن لائن دنیا میں ہر چمکتی ہوئی چیز کو سچ نہ سمجھ لیں۔ اس ضمن میں میڈیا اور تعلیمی نصاب میں ایسے کورسز کا شامل کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے جو طلباء کو یہ سکھائیں کہ ڈیجیٹل مواد کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے۔ اگر بروقت اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو معاشرے میں سچ اور جھوٹ کا فرق مٹ جانے کا خدشہ ہے، جو انسانی تہذیب اور اعتماد کے رشتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔