LIVE
Loading Breaking News...

عمیرہ احمد کی تحریریں اور مصنوعی ذہانت کا تنازعہ - نیکسورا نیوز

News Image
نامور پاکستانی مصنفہ عمیرہ احمد کی ٹیم نے مداحوں اور تخلیق کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی کتابوں اور تحریروں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے غیر معیاری مواد بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ تخلیقی املاک کا یہ غلط استعمال ناقابل قبول ہے اور اس سے مصنفہ کے اصل کام کی روح مجروح ہوتی ہے۔
معروف اور مقبول ترین پاکستانی مصنفہ اور ناول نگار عمیرہ احمد کی انتظامی ٹیم نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایک اہم اور سخت پیغام جاری کیا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ مداحوں اور کچھ تخلیق کاروں کی جانب سے عمیرہ احمد کے مشہور ناولز اور تحریروں کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (Artificial Intelligence) کے ٹولز میں فیڈ کر کے نیا مواد اور تصاویر بنائی جا رہی ہیں، جنہیں 'اے آئی سلپ' کہا جاتا ہے۔ ٹیم نے اس عمل کو فوری طور پر بند کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اپنے بیان میں ٹیم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عمیرہ احمد کے ناولز جیسے کہ 'پیر کامل' اور 'حاصل' سمیت دیگر شاہکار برسوں کی محنت، فکری گہرائی اور جذباتی وابستگی کا نتیجہ ہیں۔ جب ان تحریروں کو بغیر اجازت کسی اے آئی ماڈل کے ذریعے توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے یا غیر معیاری مواد تیار کیا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف مصنفہ کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے بلکہ ان کی تخلیقات کی اصل خوبصورتی اور سنجیدگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ٹیم نے تمام مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تخلیقی ایمانداری کا مظاہرہ کریں اور کاپی رائٹ کے قوانین کا احترام کریں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس کا غلط استعمال فنکاروں اور مصنفین کی محنت پر پانی پھیر رہا ہے۔ عمیرہ احمد کے چاہنے والوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مصنفہ کے کام کی قدر کرتے ہوئے اس طرح کے اقدامات سے گریز کریں گے تاکہ اردو ادب کے وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔