Politics
نیتنیاہو کا نیویارک کے میئر مامدانی پر الزامات کا انکشاف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے نیویارک کے میئر پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر گرفتاری کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم، میئر مامدانی نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان کے پاس اس قسم کی گرفتاری کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے نیویارک کے میئر مامدانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میئر نے نیتنیاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ کے تحت گرفتار کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے بیانات بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور میئر کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکی غیر معمولی سفارتی تناؤ کا باعث بنی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین اس واقعے کو مقامی اور بین الاقوامی سیاست کا ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں جہاں عالمی عدالت کے احکامات اور مقامی اختیارات کے دائرہ کار پر بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ مزید برآں، صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب نیویارک کے میئر مامدانی نے گزشتہ ہفتے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے عوامی سطح پر یہ تسلیم کیا کہ ان کے پاس دراصل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر کسی بھی غیر ملکی رہنما کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ اس اعتراف کے بعد معاملے کی شدت میں تو کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن نیتنیاہو اور ان کے حامیوں کی جانب سے اس بیان کی شدید مذمت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اس قسم کے بیانات کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے خلاف اس طرح کی بیان بازی سے گریز کیا جائے۔ اس پورے واقعے نے مقامی سیاست کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور ان کے نفاذ کی حدود پر بھی ایک بار پھر سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔