LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی آرمی کالج میں جنسی زیادتی کے الزامات اور تحقیقات کا مطالبہ

News Image
برطانیہ کے آرمی فاؤنڈیشن کالج ہیروگیٹ میں چار خواتین نے جنسی زیادتی اور ہراسانی کا نشانہ بننے کا انکشاف کیا ہے۔ اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد برطانوی فوج کے تربیتی اداروں میں احتساب اور تحقیقات کے لیے شدید مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ کے معروف فوجی ادارے آرمی فاؤنڈیشن کالج (اے ایف سی) ہاروگیٹ میں نوعمر طالبات کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویوز میں چار خواتین نے یہ ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ جب وہ اس کالج میں زیرِ تعلیم تھیں تو انہیں شدید جنسی ہراسانی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد فوج کے اندرونی نظام اور تربیتی اداروں کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آرمی فاؤنڈیشن کالج ہاروگیٹ نارتھ یارکشائر میں واقع ہے جہاں سولہ سالہ نوعمر نوجوانوں کو برطانوی فوج میں شمولیت کے لیے تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ماحول میں کم عمر کیڈٹس بالخصوص خواتین کو عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور شکایت کرنے کے باوجود اعلیٰ حکام کی جانب سے فوری یا مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ ان اطلاعات نے والدین اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے کہ کم عمر کیڈٹس کو ایسے اداروں میں بھیجنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جہاں ان کے تحفظ کی مکمل ضمانت نہ ہو۔ واقعات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کے اراکین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزارتِ دفاع اور آرمی ہیڈ کوارٹرز سے فوری طور پر ایک آزادانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج کے اندر اس طرح کے واقعات کو دبانے یا نظر انداز کرنے کی روایتی روش کو اب ختم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب، برطانوی فوج کے ترجمان نے ان الزامات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ موصولہ شکایات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ قانون کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔