World
یوکرین کے روس میں آئل ریفائنریوں پر حملے، جنگی مالیات کو نشانہ بنایا گیا
یوکرین نے روسی سرزمین کے اندر گہرائی میں واقع دو اہم تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ماسکو کی جنگی مالی معاونت کو محدود کرنا ہے۔
یوکرین نے روسی سرزمین کے اندر گہرائی میں واقع دو اہم آئل ریفائنریوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اس کی مالی آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے روسی عسکری انفراسٹرکچر اور اقتصادی ریڑھ کی ہڈی کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔
یوکرین کے صدر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ فضائی حملے اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ان تمام آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا ہے جنہیں روس اپنی جنگی مہم کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فورسز اب روسی سرزمین کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں تاکہ جارح ملک کو اس کی جارحیت کی بھاری معاشی قیمت چکانی پڑے۔
دوسری جانب، روسی حکام نے ان حملوں کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں ایک نئے اور خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں جنگ کے اثرات اب براہ راست روس کے اندرونی معاشی ڈھانچے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور توانائی کے ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان حملوں سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے بھی خدشات جنم لے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے مزید بڑھنے اور خطے میں عسکری کارروائیوں میں تیزی آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔