Health
این ایچ ایس کی گرمی کی لہروں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی
برطانوی وزیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کی لہروں کے دوران اسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ اور طبی آلات کی خرابی بڑھ جاتی ہے۔ لہذا، صحت کے اداروں کو موسم سرما کی طرح موسم گرما کے لیے بھی پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔
برطانیہ کے سیکرٹری صحت نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو شدید گرمی کی لہروں سے نمٹنے کے لیے بالکل اسی طرح منصوبہ بندی کرنا ہوگی جس طرح وہ روایتی طور پر موسم سرما کے چیلنجز کے لیے تیاری کرتی ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ شدید گرم دنوں کے دوران ملک بھر کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شدید درجہ حرارت کی وجہ سے طبی آلات اور تنصیبات کو بھی مختلف قسم کے تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے طبی خدمات کی فراہمی متاثر ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں موسم گرما کے دوران گرمی کی لہروں کو اکثر کم اہمیت دی جاتی تھی، لیکن بدلتے ہوئے موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ شدید گرمی خاص طور پر بزرگ افراد، بچوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بنتی ہے۔ گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، دل کے دورے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد ہنگامی طبی امداد کے لیے اسپتالوں کا رخ کرتی ہے، جس پر قابو پانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ اسپتالوں اور طبی عملے کو گرمیوں کے آغاز سے پہلے ہی تمام ضروری انتظامات مکمل کر لینے چاہئیں۔ اس جامع حکمت عملی میں کولنگ سسٹمز کی بہتری، ہنگامی عملے کی اضافی تعیناتی، اور مریضوں کو بروقت طبی مشورے فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ انتہائی گرم موسم میں بھی عوام کو بلا تعطل اور اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات میسر آتی رہیں اور طبی نظام پر غیر معمولی بوجھ نہ پڑے۔