LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں تناؤ اور بحران

News Image
طویل تنازعے نے اسرائیل میں سیاسی اقتدار اور عسکری فیصلوں کے مابین تعلقات کی نوعیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ دونوںم فاداتی اور انتظامی حلقوں کے باہمی اعتماد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری طویل اور پیچیدہ تنازعے نے اسرائیل کے اندرونی سیاسی اور عسکری ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، طویل جنگی صورتحال کی وجہ سے اسرائیل کی حکومتی قیادت اور عسکری حلقوں کے درمیان طویل عرصے سے قائم روایتی معاہدہ اور اعتماد کا رشتہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کس طرح مسلسل جنگی دباؤ نے ریاستی اداروں کے اندرونی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماضی میں اسرائیل کے اندر سیاسی اقتدار اور فوجی فیصلوں کے مابین ایک نادیدہ مگر مضبوط ہم آہنگی پائی جاتی تھی، جہاں عسکری ماہرین کی پیشہ ورانہ رائے کو سیاسی سطح پر بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ تاہم، موجودہ حالات میں اس توازن میں نمایاں فرق آ چکا ہے۔ طویل لڑائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اسٹریٹجک چیلنجز نے دونوں فریقین کے درمیان ترجیحات کے فرق کو واضح کر دیا ہے، جس سے پالیسی سازی کے عمل میں بھی اختلافات ابھر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تعلق کے کمزور ہونے سے نہ صرف ملکی سلامتی کے فیصلوں پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ داخلی سیاسی منظرنامہ بھی غیر یقینی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل المدتی تنازعات ہمیشہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو کڑی آزمائش میں ڈالتے ہیں، اور موجودہ اسرائیلی بحران اس کی ایک واضح مثال ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹوٹے ہوئے اعتماد کی بحالی یا مزید گہرے ہونے والے اختلافات کے اسرائیل کی داخلی اور خارجی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین اس پیشرفت کو نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ ایک مضبوط اور مربوط عسکری و سیاسی اتحاد کے بغیر کسی بھی ریاست کے لیے اسٹریٹجک فیصلے کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔