Business
شین کو 99 ملین ڈالر کا نقصان، ہانگ کانگ میں اسٹاک مارکیٹ ڈیبیو کی تیاریاں
فاسٹ فیشن کی معروف عالمی کمپنی شین کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹیرف کی پالیسیوں کے اثرات کے تحت 99 ملین ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ کمپنی اس مالیاتی دھچکے کے باوجود ہانگ کانگ میں اپنے حصص کی فروخت یعنی اسٹاک مارکیٹ میں ڈیبیو کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
دنیا کی مقبول ترین فاسٹ فیشن کمپنیوں میں شمار ہونے والی 'شین' (Shein) کو حالیہ دنوں میں مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ امریکی صدارتی انتظامیہ بالخصوص ڈونلڈ ٹیرف کے نفاذ کے بعد اس کی فروخت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کو 99 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس نے کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ خسارہ اس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ فیشن جائنٹ ہانگ کانگ کے اسٹاک ایکسچینج میں اپنے حصص کی فروخت کے ذریعے شاندار انداز میں ڈیبیو کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرفس میں تبدیلیوں نے عالمی سطح پر سپلائی چین اور ریٹیل انڈسٹری کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کا براہ راست اثر شین جیسے بڑے برانڈز کی منافع بخش پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود، کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے ہانگ کانگ میں شیئرز کے اجراء کے حوالے سے کام تندہی سے جاری ہے اور وہ اس ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کو کامیاب بنانے کے لیے پرامید ہیں۔ اس صورتحال نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کس طرح سیاسی اور تجارتی تبدیلیاں دنیا بھر کے بڑے کاروباری اداروں کی مالی حالت کو راتوں رات بدل سکتی ہیں۔ سرمایہ کار اب بڑی قریب سے اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ مالی نقصان شین کے طویل مدتی کاروباری منصوبوں اور مارکیٹ ویلیو کو متاثر کرے گا یا نہیں۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں حالات بہتر ہونے کی توقع ہے۔