World
افغانستان میں غذائیت کی کمی کا بحران اور بچوں کی صحت
افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں کی غذائیت کی کمی اور بدترین کمزوری (ویسٹنگ) کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ عالمی اور مقامی سطح پر امدادی سرگرمیوں کے باوجود متاثرہ علاقوں میں صورتحال تاحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بچوں میں غذائیت کی شدید ترین اور جان لیوا ترین قسم جسے چائلڈ ویسٹنگ کہا جاتا ہے، ملک کے ایک تہائی صوبوں میں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہرین صحت اور بین الاقوامی فلاحی اداروں نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔ افغانستان میں جاری معاشی بحران، صحت کی سہولیات کا فقدان اور خوراک کی شدید قلت نے پہلے ہی لاکھوں خاندانوں کو متاثر کر رکھا ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ کمسن بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسٹنگ بچوں کے لیے غذائیت کی سب سے خطرناک حالت ہے جس میں بچے کا وزن اس کے قد کے لحاظ سے انتہائی کم ہو جاتا ہے اور اس کا مدافعتی نظام مکمل طور پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس بیماری کا شکار بچوں میں مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہونے اور اموات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ افغانستان کے متاثرہ صوبوں میں اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ امدادی سامان کی فراہمی میں بھی مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ افغان بچوں کو اس انسانی بحران سے نکالنے کے لیے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر خوراک، صاف پانی اور طبی امداد فراہم کی جائے۔ اگر اس بحران پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید ہولناک ہو سکتی ہے، جس سے ہزاروں مزید بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔