World
ایران کی جنگی حکمت عملی اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا پس منظر
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان پاکستان سمیت کئی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ سمجھوتہ کیوں نہیں کرتا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی اسٹریٹجی تاریخی تجربات اور ماضی میں کیے گئے وعدوں سے انحراف کے بعد مستقل سیکیورٹی اور زیرو ٹرسٹ کے اصول پر مبنی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں یہ سوال مسلسل پوچھا جا رہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ڈیل کے ذریعے پابندیوں سے نجات کیوں حاصل نہیں کر لیتا۔ پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے، جن کی معیشت اور توانائی کی ضروریات اس خطے کے حالات سے براہ راست جڑی ہیں، یہ تشویش بالکل فطری ہے۔ تاہم، ایران کے سیاسی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر کو سمجھے بغیر اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا ممکن نہیں۔ تہران کی موجودہ حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تلخ تجربات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ ایران کو اب تک کئی بار امریکہ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کثیر الفریقی جوہری معاہدے یعنی جے سی پی او اے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا فیصلہ تہران کے لیے ایک بڑا دھکا تھا۔ اس کے بعد بھی جب کبھی مذاکرات کی کوشش کی گئی، صورتحال میں بہتری کے بجائے کشیدگی میں اضافہ ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت اب مستقبل کے مبہم وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے ناقابلِ تردید ضمانتوں اور 'زیرو ٹرسٹ' کے اصول پر کاربند ہے۔ تہران کے ناقدین اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ مسلط کرنے والے فریق اور اس کا شکار بننے والے ملک کے درمیان فرق کیا ہے۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ کشیدگی اور خلیجی ممالک میں عدم استحکام براہ راست اسلام آباد کے لیے معاشی اور سفارتی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان توانائی کے بحران اور مہنگائی کی وجہ سے اس تنازع کے جلد از جلد خاتمے کا خواہاں ہے اور اسی لیے مصالحانہ کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ تنازع خطے کے چھوٹے پیمانے کے مفادات سے بہت بڑا اور پیچیدہ ہے۔ ایران کو یہ خوف ہے کہ اگر اس نے بغیر کسی ٹھوس اور پائیدار ضمانت کے موجودہ دباؤ میں گھٹنے ٹیک دیے، تو اس سے بیرونی طاقتوں کے لیے مستقبل میں بھی جب چاہیں حملے کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔
عالمی سطح پر عمان کے وزیر خارجہ سمیت کئی سفارتی شخصیات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ماضی میں ایران نے جوہری مواد کے ذخیرے کو محدود کرنے اور مکمل نگرانی قبول کرنے جیسے اہم اور کڑے اقدامات اٹھائے تھے، اس کے باوجود واشنگٹن کی طرف سے مثبت ردعمل نہیں ملا۔ تہران کے لیے درد سے بچنا اور اقتصادی ترقی کرنا یقیناً اہم مقاصد ہیں، لیکن ایک ایسے خطے میں جہاں مستقل خطرات منڈلا رہے ہوں، محض عارضی ریلیف کے لیے اپنے اسٹریٹجک فوائد کو ضائع کرنا حماقت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی موجودہ جنگی اور سیاسی حکمت عملی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے گرد گھومتی ہے۔