LIVE
Loading Breaking News...

عبداللہ طاہر قتل کیس اور ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کرنے کا انکشاف

News Image
عبداللہ طاہر کے قتل کے معاملے میں پولیس نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کے ڈرائیور کو ایک ٹک ٹاکر کے ذریعے ہنی ٹریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سنسنی خیز معاملے کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھنائونے جرم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
عبداللہ طاہر کے قتل کے انتہائی سنسنی خیز مقدمے میں تفتیشی اداروں نے ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول کے قتل سے قبل پی ٹی آئی رہنما کے ڈرائیور کو ایک معروف ٹک ٹاکر کے ذریعے ہنی ٹریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ڈرائیور کو مخصوص مقامات پر لانا اور ملزمان کے لیے سہولت کاری فراہم کرنا تھا تاکہ اس افسوسناک واردات کو باآسانی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ تفتیشی ٹیمیں اس پہلو پر بھی باریک بینی سے کام کر رہی ہیں کہ اس سازش کے پیچھے کون لوگ کارفرما تھے اور اس واردات کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کے مطابق ملزمان نے جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک منظم جال بُنا تھا۔ ڈرائیور کو بلانے کے لیے ٹک ٹاکر کے ذریعے مختلف حربے استعمال کیے گئے جن سے وہ لاعلم تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس ہنی ٹریپ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد کیس کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور اب تفتیش کا رخ ان تمام افراد کی طرف موڑ دیا گیا ہے جو اس ڈیجیٹل پھندے کو تیار کرنے میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث تھے۔ دوسری جانب، اس دلخراش واقعے پر سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور مقتول کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور کسی بھی اثر و رسوخ کو خاطر میں لائے بغیر تمام مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی اس کیس کے تمام مخفی رازوں سے پردہ اٹھا لیا جائے گا اور ٹک ٹاکر سمیت تمام مرکزی کرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔