World
لیبیا طرابلس احتجاج: بجلی کی کٹوتی کے خلاف شہریوں کی سول نافرمانی
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہریوں کا غصہ سڑکوں پر آ گیا ہے۔ مظاہرین نے اہم راستوں اور سرکاری وزارتوں کو بند کر کے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ کٹوتی کے خلاف عوام کا شدید غصہ پھٹ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہریوں نے حکومتی نااہلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم سڑکیں بلاک کر دی ہیں اور ٹریفک کا نظام معطل ہو چکا ہے۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے متعدد سرکاری وزارتوں کے دفاتر کو بھی زبردستی بند کرا دیا ہے تاکہ حکام پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ بجلی کی طویل بندش نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور گرمی کے اس موسم میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ احتجاج اب ایک وسیع تر سول نافرمانی کی تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو طرابلس سے نکل کر گردونواح کے دیگر علاقوں تک بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ لیبیا کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی پر حکومتی ڈھانچے سے نالاں ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور بدانتظامی کے باعث ملک کا پاور سیکٹر شدید بحران کا شکار ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے اور مظاہرین سے مذاکرات کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم تاحال صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک بجلی کے بحران کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، یہ احتجاج اور سول نافرمانی کی تحریک اسی طرح جاری رہے گی، جس سے حکومتی مشینری کی کارکردگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔