Business
پاکستان میں سولر انرجی اور بیٹری اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی مانگ
پاکستان میں سولر انرجی کے تیزی سے فروغ کے بعد اب بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی طلب میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ ملک کو اب بجلی کی پیداوار کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سولر انرجی کا ایک زبردست انقلاب برپا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب ملک بھر میں بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی طلب میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں کی جانب سے شمسی توانائی کے حصول کے بعد اضافی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹریوں کا استعمال ناگزیر بن چکا ہے، تاکہ رات کے اوقات میں یا لوڈشیڈنگ اور گرڈ کی خرابی کی صورت میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
دوسری جانب، وفاقی وزیرِ توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو اب مجموعی طور پر بجلی کی پیداوار کی کمی کا سامنا نہیں ہے، جو کہ ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ سولر انرجی کے اس بے مثال اضافے کو اب ملک کے اندر ہی سولر اور بیٹری مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، سال 2025 کے دوران تقسیم شدہ سولر سسٹمز (Distributed Solar) نے پاکستان کی کل بجلی کی ضرورت کا 27 فیصد حصہ فراہم کیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عام صارفین اور صنعتیں روایتی بجلی پر انحصار کم کر کے متبادل توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہیں۔ اس منتقلی نے نہ صرف صارفین کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی کی ہے بلکہ ملک کے ماحول دوست توانائی کے اہداف کو بھی تقویت دی ہے۔
علاوہ ازیں، ریگولیٹری ماحول کو بھی مزید سازگار بنایا جا رہا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) نے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے طویل اور پیچیدہ منظوری کے عمل کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس اقدام سے نئے سسٹمز کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں اور عوام کے لیے سولر ٹیکنالوجی تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے، جس سے آئندہ دنوں میں اس شعبے میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔