LIVE
Loading Breaking News...

اینڈرائیڈ ایپس اور لوکیشن ڈیٹا پرائیویسی کے خطرات

News Image
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اینڈرائیڈ ایپس میں استعمال ہونے والی تھرڈ پارٹی ایڈورٹائزنگ ایس ڈی کے لائبریریاں صارفین کے مقام کا حساس ڈیٹا چپکے سے اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کر رہی ہیں۔ الیکٹرانک فرنٹیر فاؤنڈیشن (ای ایف ایف) نے خبردار کیا ہے کہ صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
جدید ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فونز ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی صارفین کی ڈیجیٹل پرائیویسی کو لاحق خطرات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں معروف تکنیکی پلیٹ فارمز اور الیکٹرانک فرنٹیر فاؤنڈیشن (ای ایف ایف) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی متعدد تھرڈ پارٹی ایڈورٹائزنگ ایس ڈی کے (SDK) لائبریریاں صارفین کے مقام کا حساس ڈیٹا خاموشی سے اشتہاری نیٹ ورکس کو منتقل کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل صارفین کی لاعلمی میں ہوتا ہے اور اس سے پرائیویسی کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بہت سے مقبول اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز میں ایسی اشتہاری لائبریریاں یا کوڈز شامل ہوتے ہیں جو بظاہر ایپ کی بنیادی کارکردگی کو بہتر بنانے یا اشتہارات دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں، تاہم پس منظر میں وہ صارف کے جی پی ایس لوکیشن اور دیگر اہم معلومات کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب صارفین مختلف ایپس انسٹال کرتے ہیں تو وہ اکثر پرائیویسی پالیسیوں کو پڑھے بغیر اجازت دے دیتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کمپنیاں درست (Precise) لوکیشن ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس صورتحال نے صارفین اور سیکیورٹی ماہرین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ الیکٹرانک فرنٹیر فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ڈیولپرز کو اپنے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے ایڈورٹائزنگ سسٹمز کے انتخاب میں محتاط رہنا چاہیے جو پرائیویسی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی نے اینڈرائیڈ صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فون سیٹنگز میں جا کر ایپس کی لوکیشن پرمیشنز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور صرف انہی ایپس کو مقام تک رسائی دیں جن کے لیے یہ واقعی ضروری ہو۔ آئندہ دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ گوگل اور دیگر آپریٹنگ سسٹم فراہم کرنے والے ادارے اس حوالے سے مزید سخت اقدامات اٹھائیں گے تاکہ تھرڈ پارٹی ایس ڈی کے کے ذریعے ڈیٹا کے اس غیر قانونی اخراج کو روکا جا سکے۔ دریں اثنا، صارفین کو بھی اپنے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے زیادہ بیدار ہونے اور ایپس کی ڈاؤن لوڈنگ کے دوران سیکیورٹی اور پرائیویسی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔