World
سپین کاسٹیلون جنگلاتی آگ: چار ہزار ہیکٹر اراضی تباہ، پندرہ ہزار افراد کا انخلا
سپین کے مشرقی صوبے کاسٹیلون میں لگی ہولناک جنگلاتی آگ نے اب تک چار ہزار تین سو ہیکٹر سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آگ کی شدت کے باعث حکام نے پندرہ ہزار سے زائد رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔
سپین کے مشرقی خطے کاسٹیلون میں شدید گرمی اور خشک موسم کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ بے قابو ہو گئی ہے، جس نے وسیع و عریض رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اس خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں اب تک چار ہزار تین سو ہیکٹر سے زائد اراضی جل کر راکھ ہو چکی ہے۔ آگ کی یہ لہر انتہائی تیزی سے رہائشی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پندرہ ہزار کے قریب شہریوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کا حکم دینا پڑا۔ متاثرہ علاقوں میں فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں دن رات آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سپین کے محکمہ موسمیات اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار ہائی الرٹ پر ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ شہریوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کر دی گئی ہیں جہاں انہیں خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا یقین دلایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال یورپ میں گرمی کی لہر اور بارشوں کی کمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی واضح غمازی کرتا ہے۔