World
برطانیہ میں امیگریشن مخالف ہنگامہ آرائی اور گرفتاریاں
برطانیہ کے علاقے شیٹ فورڈ میں مسلسل دو راتوں تک جاری رہنے والی امیگریشن مخالف ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی ہیں جبکہ کشیدہ صورتحال میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مقامی رکن پارلیمنٹ نے ان بدنظم اور بدصورت مناظر کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
برطانیہ کے علاقے شیٹ فورڈ میں امیگریشن کے تنازع اور اس کے خلاف پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد دو راتوں تک شدید ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ نورفولک پولیس کو ان پرتشدد مظاہروں اور بدنظمی کو قابو کرنے کے لیے بھاری نفری کے ساتھ مداخلت کرنا پڑی۔ پولیس حکام کے مطابق حالات کو کنٹرول میں لانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی جس کے دوران کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقے میں اس ناخوشگوار صورتحال کے بعد خوف اور تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے امن و امان کی بحالی کے لیے گشت بڑھا دیا ہے اور تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس ان عناصر کی شناخت میں مصروف ہے جو اس بدنظمی اور انتشار کا سبب بنے۔ اس پرتشدد صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مقامی رکن پارلیمنٹ نے ان تمام واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں ان پرتشدد اور بدنما مناظر کو معاشرے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ پارلیمنٹیرین نے عوام سے پرامن رہنے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے جبکہ پولیس حکام نے بھی شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔