World
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے ریفرلز میں ریکارڈ اضافہ
برطانوی ہوم آفس کے مطابق انسداد دہشت گردی کے نجی پروگرام کے لیے موصول ہونے والے ریفرلز میں دس سال کی ریکارڈ بلند ترین سطح دیکھی گئی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سال 2024 کے ساؤتھ پورٹ حملے ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کے ہوم آفس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے پریوینٹ اسکیم کے تحت موصول ہونے والے ریفرلز کی تعداد دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران اس پروگرام کے تحت معاونت اور رپورٹنگ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے جو کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور بیداری کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ اضافے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں، جن میں حالیہ برسوں کے پرتشدد واقعات بھی شامل ہیں۔
ہوم آفس کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریفرلز کی تعداد میں اس نمایاں اضافے کی ایک بنیادی وجہ شاید سال 2024 کے دوران پیش آنے والے ساؤتھ پورٹ حملے ہیں۔ ان حملوں کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی کے حوالے سے عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا اور متعلقہ اداروں نے کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ عوام اور مقامی اداروں کی طرف سے مشکوک سرگرمیوں یا انتہا پسندانہ رجحانات کی بروقت اطلاع دینے کے رحجان میں بھی اضافہ ہوا ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
پریوینٹ اسکیم کا مقصد ایسے افراد کی بروقت نشاندہی کرنا اور انہیں مدد فراہم کرنا ہے جو انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہوں یا جنہیں دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ ہو۔ ہوم آفس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے نوجوانوں اور متاثرہ افراد کی کونسلنگ اور بحالی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ انہیں پُرامن معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ ریفرلز میں اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب اس نظام پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور مشکوک رویوں کو چھپانے کے بجائے حکام کے سامنے لانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
برطانوی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انسداد دہشت گردی کے یہ اقدامات مؤثر انداز میں کام کریں۔ دوسری جانب، سول سوسائٹی کے کچھ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ریفرلز کے اس نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ کسی بھی معصوم فرد کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ سکیورٹی ادارے آئندہ بھی اس اسکیم کو مزید بہتر بنانے اور عوامی تعاون کے ساتھ ملک کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔