World
لبنانی صحافی امل خلیل کی شہادت، انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنانی صحافی امل خلیل کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور امدادی کارکنوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ عالمی تنظیموں نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی صحافی امل خلیل کی ہلاکت کو ایک سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے بظاہر جان بوجھ کر صحافی کو نشانہ بنایا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال اور زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے لانے والی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا جب مشرق وسطیٰ میں صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ پر شدید عالمی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد نہ صرف صحافی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ موقع پر موجود امدادی کارکنوں اور ریسکیو ٹیموں کو بھی اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکا گیا، جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تنازعات کے علاقوں میں خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور ان پر جان بوجھ کر حملہ کرنا بین الاقوامی جنگی قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جنگی زون میں کام کرنے والے میڈیا کے نمائندوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
عالمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے میڈیا کی آزادی پر کاری ضرب لگ رہی ہے اور جنگی صورتحال میں سچائی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔