Technology
پالانٹیر ٹیک گروپ کی کم ترین ٹیکس شرح پر نئی رپورٹ جاری
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ارتقاء پذیر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی پالانٹیر کی ٹیکس شرح محض ایک اعشاریہ چار فیصد تک محدود ہے۔ یہ ٹیکنالوجی گروپ اپنی مصنوعات اسرائیلی فوج اور امریکی انتظامیہ کی مختلف ایجنسیوں کو فراہم کرتا ہے۔
دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کمپنی پالانٹیر، جو کہ تقریباً تین سو ستر ارب ڈالر کی مالیت رکھتی ہے، کے حوالے سے ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ ادارہ محض ایک اعشاریہ چار فیصد کی انتہائی کم شرح سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس انکشاف نے معاشی ماہرین اور ٹیکس اصلاحات کے حامیوں کی توجہ اس گروپ کی طرف مبذول کرا دی ہے، جو طویل عرصے سے کارپوریٹ ٹیکس پالیسیوں کے تناظر میں زیر بحث رہا ہے۔ پالانٹیر اپنی جدید سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی کی خدمات کے باعث عالمی سطح پر جانی جاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کے طاقتور ترین ڈیٹا سسٹمز فراہم کرنے والے اداروں میں ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹیکنالوجی گروپ کی خدمات دنیا بھر کے کئی حساس اور اہم اداروں کے زیر استعمال ہیں۔ پالانٹیر کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو اسرائیل کی فوج کے علاوہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای (ICE) کی طرف سے بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان اداروں کے ساتھ کمپنی کے گہرے اور طویل مدتی روابط نے اسے عالمی تکنیکی اور دفاعی منڈی میں ایک منفرد مقام دلایا ہے، جہاں ان کی ٹیکنالوجی کو سکیورٹی اور آپریشنل حکمت عملیوں میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
کمپنی کے مالیاتی ڈھانچے اور اتنی کم شرح ٹیکس کے نفاذ نے کارپوریٹ دنیا میں ٹیکس کے قوانین پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں قانونی موشگافیوں اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کا فائدہ اٹھا کر اپنے ٹیکس کی شرح کو اس حد تک کم رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جو عام کاروباری اداروں اور عام شہریوں کے لیے ناقابل فہم ہوتی ہے۔ دوسری طرف، پالانٹیر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ کمپنی تمام تر ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی اپنے مالیاتی امور کو چلاتی ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی عمل شامل نہیں ہے۔
اس پوری صورتحال نے عالمی سطح پر کارپوریٹ ٹیکس کے نظام، بڑی ٹیک اداروں کے اثر و رسوخ اور ان کے سرکاری اداروں بالخصوص دفاعی اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعلقات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومتیں اور مالیاتی ادارے اس طرح کے ٹیکس ماڈلز پر مزید سخت نظرثانی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام بڑی کمپنیاں اپنی آمدنی کے تناسب سے منصفانہ ٹیکس ادا کریں۔ پالانٹیر کا یہ معاملہ اب صرف ایک کاروباری خبر نہیں بلکہ دنیا بھر میں معاشی انصاف اور ٹیکس پالیسیوں کی اصلاحات کا ایک اہم استعارہ بن چکا ہے۔