LIVE
Loading Breaking News...

تعلیمی عدم مساوات: امیر اور غریب ممالک کے تعلیمی اخراجات میں بڑا فرق

News Image
ایک نئی رپورٹ کے مطابق امیر ترین ممالک ہر بچے کی تعلیم پر غریب ممالک کے مقابلے میں اکتالیس گنا زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر کلاس رومز اور تعلیمی نظام میں پائی جانے والی اس شدید عدم مساوات نے تعلیمی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ اور مالی وسائل میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور الجزیرہ لیبز (AJLabs) کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے امیر ترین ممالک ہر بچے کی بنیادی اور ثانوی تعلیم پر غریب ممالک کے مقابلے میں اوسطاً اکتالیس گنا زیادہ رقم خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تعلیمی میدان میں یہ گہری خلیج نہ صرف معاشی تفاوت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی کے دعووں پر بھی بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ معیشتیں اپنے بچوں کے تعلیمی اداروں کو جدید ترین سہولیات، ڈیجیٹل آلات، معیاری اساتذہ اور بہترین انفراسٹرکچر سے لیس کرتی ہیں، جبکہ اس کے برعکس پسماندہ خطوں میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ دوسری جانب، ترقی پذیر اور غریب ممالک میں لاکھوں بچے بنیادی سہولیات سے محروم کلاس رومز میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں میں اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں، پینے کے صاف پانی، بیت الخلا اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، اور ایک ہی کلاس روم میں مختلف جماعتوں کے بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کی بھی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ کمزور معیشتوں والے ممالک اپنے محدود وسائل کا زیادہ تر حصہ قرضوں کی ادائیگی یا دیگر ہنگامی ضروریات پر خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیمی بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ اس مالی بحران کا براہ راست اثر بچوں کے سیکھنے کے عمل اور ان کی صلاحیتوں کے نکھار پر پڑتا ہے، جس سے وہ عالمی مسابقت میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس عالمی تعلیمی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو دنیا بھر میں غریب اور امیر کا یہ فرق مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم وہ واحد ذریعہ ہے جو غربت کے دائرے کو توڑ سکتا ہے، لیکن جب ابتدائی سطح پر ہی بچوں کو یکساں مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو معاشرتی ترقی کا خواب ادھورا ہی رہتا ہے۔ بین الاقوامی برادری، عطیہ دہندگان اور حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تعلیمی بجٹ میں اضافے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور پسماندہ ممالک کے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔