LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی حملے، حکومتی فورسز کے 30 اہلکار جاں بحق

News Image
یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری تنازع کے دوران حالیہ حملوں میں کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں یہ سب سے خونریز حملے مانے جا رہے ہیں۔
یمن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے حکومتی فورسز کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے حالیہ اور شدید حملوں کے نتیجے میں کم از کم تیس اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں گزشتہ کئی برسوں کے دوران یمن کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں ہونے والے سب سے خطرناک اور خونریز حملے قرار دی جا رہی ہیں، جن سے ملک میں ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع اور سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ملک میں امن کی بحالی اور سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں پہلے ہی انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ حوثیوں کی طرف سے اچانک اور منظم انداز میں کیے جانے والے ان حملوں کے بعد حکومتی فورسز کی جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں، تاہم جاں بحق ہونے والوں کی تعداد نے علاقے میں انسانی اور سیکیورٹی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین نے اس تازہ ترین خون خرابے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف آئیں تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ یمن میں برسوں سے جاری اس اندرونی جنگ نے پہلے ہی لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، اور حالیہ جھڑپیں اس بات کی غماز ہیں کہ امن کا حصول تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث امدادی ٹیموں کی رسائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔